کیا ہم اولڈ ہائوسز میں رہ رہے ہیں ؟ 50

ائیر پورٹ سوسائٹی کے “ڈاکو صاحب، ہمیں معاف رکھنا!” (باعث افتخار انجنیئر افتخار چودھری)

ائیر پورٹ سوسائٹی کے “ڈاکو صاحب، ہمیں معاف رکھنا!”
باعث افتخار انجنیئر افتخار چودھری

یہ ویسے ہی میں نے کہہ دیا اپ یقین کریں یہ میری اپیل ہے کہ ہمارے پاس کچھ بھی باقی نہیں بچا اور اسی طرح سوسائٹی کے لوگ اپ ڈاکو صاحبان سے یہ اپیل کر رہے ہیں جس طرح ہمارے وزیراعظم جب وزیراعلی ہوا کرتے تھے تو انہوں نے طالبان سے اپیل کی تھی کہ بھئی ہم تو اپ کے چاہنے والے ہیں ہمارے صوبے میں دھماکہ نہ کیا کرو اسی لیے ہم ڈاکو صاحبان سے بھی اپیل کرتے ہیں چور صاف سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ خدارا لوٹے ہوئے مرے ہوئے کو نہ مارے۔
ایئرپورٹ سوسائٹی، جو کبھی ایک پُرامن اور خوبصورت رہائشی علاقہ ہوا کرتا تھا، آج چوروں، ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے جنت بن چکا ہے۔ یہاں کے مکین ہر روز عدم تحفظ کے ایک نئے تجربے سے گزرتے ہیں۔ سڑکوں پر چلتے ہوئے موبائل چھن جانا، گاڑیاں چوری ہو جانا، اور گھروں میں ڈاکے پڑنا اب معمول بن چکا ہے۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو اس لاقانونیت سے محفوظ رہا ہو۔
ابھی حال ہی میں معزز رکن آثار احمد زیدی کے گھر پر فائرنگ اور دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا، مگر پولیس اور متعلقہ انتظامیہ کا وہی پرانا روایتی رویہ برقرار ہے: بے حسی، غفلت، اور خاموشی۔ یہ پہلا واقعہ نہیں، نہ ہی آخری ہوگا، کیونکہ اس سے پہلے بھی بے شمار لوگ اس ظلم کا شکار ہو چکے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے، جب تک کہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے۔
ایئرپورٹ سوسائٹی: ڈاکوؤں کی محفوظ پناہ گاہ
یہاں چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار اس قدر عام ہو چکی ہے کہ لوگ اب ان خبروں پر حیران بھی نہیں ہوتے۔ میرا اپنا تجربہ بھی اس حوالے سے کچھ کم تلخ نہیں۔ آج سے پانچ سال قبل میرے اپنے گھر پر ڈاکہ پڑا۔ پولیس نے بڑی مشکل سے چند ہزار روپے برآمد کیے، لیکن ڈاکو جو لے گئے، اس کا کوئی حساب نہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے جنازے میں شرکت کے دوران کسی نے میری جیب سے موبائل فون نکال لیا، مگر جب میں پولیس کے پاس گیا تو انہوں نے سیدھا انکار کر دیا کہ یہ کیس درج نہیں کر سکتے۔ حالانکہ میرے پاس موبائل کا ڈبہ اور تمام ضروری ثبوت موجود تھے، مگر پولیس کی بے حسی اور جان چھڑانے کا انداز صاف ظاہر کر رہا تھا کہ وہ یا تو ان جرائم پیشہ افراد سے ملے ہوئے ہیں، یا پھر مکمل طور پر نااہل ہو چکے ہیں۔
یہ محض میری کہانی نہیں، بلکہ ہر دوسرے گھر کی داستان ہے۔ میرے ساتھ والے سردار عبدالرؤف کشمیری کے گھر پر بھی ڈاکہ پڑا۔ سامنے والے گھر میں بھی چور گھس آئے۔ نیچے گلی میں بھی ڈاکہ ہوا۔ یہ سب ایسے ہی چل رہا ہے اور انتظامیہ کی دلچسپی بس اخباری بیانات تک محدود ہے۔
پولیس کی خاموشی: ملی بھگت یا مجبوری؟
یہ بات واضح ہے کہ جب کوئی جرم مسلسل ہو رہا ہو اور کوئی روکنے والا نہ ہو، تو اس میں صرف دو ہی امکانات ہوتے ہیں: یا تو متعلقہ ادارے ان جرائم میں شامل ہیں، یا پھر وہ مکمل طور پر بے بس ہو چکے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں، انسپکٹر ریاض جیسے افسران کے دور میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد میں سو فیصد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ تمام وارداتیں پولیس کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
چوکیاں قائم ہیں، پولیس کی گشت بھی ہوتی ہے، پھر بھی روزانہ چوری اور ڈکیتی کے واقعات کیوں ہو رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ اگر آپ تھانے جائیں تو پولیس کہے گی کہ “یہ علاقہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔” تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون ذمہ دار ہے؟ کیا یہ بستی لاوارث ہے؟ کیا یہاں کے رہائشیوں کی جان و مال کی حفاظت کا کوئی ضامن نہیں؟
فائرنگ، دہشت گردی، اور عوام کی بے بسی
آثار احمد زیدی کے گھر پر فائرنگ ایک کھلی دہشت گردی ہے، مگر افسوس کہ اس پر بھی صرف مذمت کی جا سکتی ہے۔ شاید یہی ہمارا مقدر ہے کہ ہم ہر واردات کے بعد صرف مذمت ہی کریں، پولیس سے کوئی امید رکھنا تو جیسے فضول ہو چکا ہے۔
ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ عوام ڈاکوؤں سے درخواست کرنے پر مجبور ہیں کہ “ڈاکو صاحب، ہمیں معاف رکھنا، ہم پہلے ہی لٹ چکے ہیں!” یہ جملہ طنزیہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ لوگ گھروں میں بیٹھے خوفزدہ ہیں، کہ کب کس کا دروازہ ٹوٹے گا اور کون اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
کیا کوئی تبدیلی ممکن ہے؟
جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ ایئرپورٹ سوسائٹی جیسے علاقے تباہی کے دہانے پر ہیں، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مکمل طور پر جرائم پیشہ عناصر کے کنٹرول میں آ جائے گا۔
پولیس کو اپنی روش بدلنی ہوگی۔ اگر واقعی کوئی ایماندار افسران موجود ہیں، تو انہیں چاہیے کہ وہ اس علاقے کے باسیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے آگے آئیں۔ گلیوں میں سیکیورٹی کیمرے لگائے جائیں، چوروں اور ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور سب سے اہم بات یہ کہ پولیس خود کو ان جرائم سے الگ کرے، نہ کہ ان میں شامل ہو۔
یہ بستی لاوارث نہیں، یہاں رہنے والے لوگ بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ اگر حکومت اور ادارے ان کی حفاظت نہیں کر سکتے، تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ کس کی حفاظت کر رہے ہیں؟ کیا قانون صرف طاقتوروں کے لیے ہے؟ کیا انصاف کا حصول صرف ان کے لیے ممکن ہے جو سفارش اور پیسے کا سہارا لے سکتے ہیں؟
یہ کالم صرف ایک فریاد نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمارے معاشرے کے بگڑتے ہوئے نظام کو عیاں کر رہا ہے۔ اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی، تو کل شاید یہ حالات مزید بگڑ جائیں گے۔ امید ہے کہ کوئی سننے والا ہوگا، کوئی ذمہ داری لینے والا ہوگا، اور کوئی ایسا بھی ہوگا جو کہے گا کہ “ایئرپورٹ سوسائٹی کو بچانا ہے، یہاں کے لوگوں کو تحفظ دینا ہے!”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں