chain of knowledge and happiness 182

سلسلہ علم و سعادت

خصوصی رپورٹ/اعجاز احمد طاہر اعوان
تصاویر/ولید اعجاز اعوان

مکتبہ دارالسلام انٹرنیشنل ریاض سعودی عرب کے مولانا عبدالمالک مجاہد سعودی عرب کی ایک معروف علمی اور دینی شخصیت ہیں۔ آپ 50 سے زائد دینی اور تاریخ اسلام کی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ آپ کا بہت بڑا حلقہ احباب ہے۔ جو آپکی علمیت کا دلداہ ہے۔ آپ دینی علوم کو لوگوں تک پہچانے کے لئے محافل کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ مولانا عبدالمالک مجاہد ہر مہینے کے پہلے منگل کو اپنے دولت خانہ پر دین سے شغف رکھنے والے احباب کو مدعو کرتے ہیں۔ گزشتہ منگل کو بعد نماز عشاء کے خصوصی خطاب کا موضوع معروف صحابی حضرت سعد بن معاذ کے حالات زندگی اور ان کے عظیم کارناموں پر محیط تھا۔

اس یادگار علمی اور روح پرور نششت کی نظامت کے فرائض معروف علمی شخصیت مولانا عمر فاروق نے سر انجام دیئے ۔ اس نششت کا آغاز قرآن پاک کی برکت تلاوت سے کیا گیا۔ تلاوت قرآن پاک کی سعادت بن وقاص، محمد مجاہد اور عبدالرحمن مجاہد نے حاصل کی۔

مولانا عبدالمالک مجاہد نے اپنے خصوصی خطاب بعنوان “” حضرت سعد بن معاذ (رح) پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سعد بن معاذ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی قریبی، قابل اعتماد اور پیارے صحابی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف معاملات میں انکی دانش، مشوروں ، جرآت مندی اور بہادری کے معترف تھے۔ جنگ بدر اور جنگ خندق میں ان کی جنگی حکمت عملی اور بہادری کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید حاصل تھی۔ جنگ خندق کے موقع پر یہودیوں کی جانب سے جنگی معاہدے کی خلاف ورزی اور غداری کے خلاف یہودی نوجوانوں اورجنگجووں کے قتل کا فیصلہ بھی حضرت سعد بن معاذ رحمت اللہ علیہ کا ہی تھا۔ جس کی تائید میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں نے کی۔

مولانا عبدالمالک مجاہد نے مزید کہا کہ حضرت سعد بن معاذ یہودیوں کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ اور وہ۔ہماری زندگیوں کے لئے بڑے رول ماڈل کا مقام بھی رکھتے تھے۔ ان کی نماز جنازہ میں 70 ہزار سے زائد فرشتے شریک ہوئے۔ اور مدینہ منورہ میں تاریخ اسلام کے سب سے پہلے معلم بھی تھے۔ آپ یہودیوں کے سب سے بڑے دشمن سمجھے جاتے تھے۔

مولانا عبدالمالک مجاہد نے اپنے خطاب کے دوران یہ بھی اعلان کیا کہ اس وقت ہمارے معاشرے کے اندر سود کی لعنت تیزی کے ساتھ اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے عنقریب جامع مسجد الراجی کے کمیونٹی ہال میں اس حساس موضوع پر اور سود کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقوں پر بھی خصوصی معلوماتی نشست کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ نوجوان نسل کے بہتر اور روشن مستقبل کے حوالے سے بھی خصوصی خطاب کا اہتمام کیا جائے گا۔ ایسی تمام روح پرور نشستوں کے اہتمام کو ریاض کے مخیر حضرات کا باہمی تعاون حاصل ہے۔
اس خصوصی محفل کے اختتام سے قبل انہوں نے مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور انکے قتل عام کی پرزور مذمت کی۔انہوں نے مسلم ممالک کی سرد مہری پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔انہوں نے فرمایا کہ مسلم حکمران اللہ کا خوف کریں اور مسلمانوں کے خون کو اتنا ارزاں نہ بننے دیں کہ یوم الحسین انکے پاس کوئی جواب نہ ہو۔آخر میں انہوں نے فلسطینی مسلمانوں کے لیئے خصوصی دعا ئیں بھی کیں ۔انہوں نے پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کی دعا بھی کرائی ۔

اس خصوصی نششت کے اختتام پر تمام مدعو مہمانوں کی خاطر مدارت عشائیہ کھانے سے کی۔ یہ یادگار نشست ایک طویل عرصہ تک یاد رکھی جائے گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں